سنی تصورات کا خلاصہ خدا ہی منصف ہے۔ قرآن پاک میں خدا الحکم کا نام ایک بار آیا ہے۔ خداتعالیٰ نے فرمایا کیا میں خدا کے علاوہ کسی اور سے فیصلہ چاہتا ہوں؟ یعنی حاکم قاضی اور حاکم اسی یا اسی معنی میں پابندی کی اصل حاکم کو حاکم کہا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ دونوں مخالفین کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ لفظ فیصلہ لفظ "حکیم" اللہ تعالیٰ کو بیان کرنے میں لفظ "حکیم" سے زیادہ فصیح ہے۔ کیونکہ عربوں میں لفظ "حکم" کا استعمال مشکل سے ہوتا ہے۔ سوائے اس کے جو عدل و انصاف کرنے والا ہو۔ حاکم کے علاوہ جس کا حکم منصفانہ یا غیر منصفانہ ہو سکتا ہے۔ حکم کے الفاظ کے ساتھ سنت بھی آئی اس نے کہا، خدا اس پر رحم کرے اور اسے سلامتی عطا کرے۔ خدا ہی منصف ہے۔ اور یہاں حکم ہے۔ ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ البانی نے اس کی توثیق کی ہے۔ جہاں تک لفظ حاکم کا تعلق ہے۔ قرآن میں اس کا تذکرہ سوائے اعلیٰ شکل کے نہیں ہے۔ خداتعالیٰ نے فرمایا وہ بہترین حکمران ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور تم حکمرانوں میں سب سے زیادہ عقلمند ہو۔ اور اس نے کہا کیا خدا سب سے زیادہ حکیم نہیں ہے؟ جو اس قول کی تصدیق کرتا ہے کہ حاکم حاکم ہوتا ہے۔ جس کے حکم میں عدل و انصاف کے سوا کچھ نہیں۔ سنی تصورات کا خلاصہ