رک جاؤ صحابہ کرام، علمائے کرام اور مشائخ سے واقفیت حاصل کی۔ میری طرف سے ایک نیا چیلنج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہوں۔ وہ اپنی ہمت اور بہادری کے لیے مشہور تھی۔ گھڑ سواری اور باڑ لگانا میں موت سے نہیں ڈرتا تھا۔ اور میں نے سو تلواروں کو مار ڈالا۔ یہ ان کے علاوہ ہے جو انہوں نے لڑائیوں کے دوران مارے تھے۔ دشمنوں کے دلوں میں میرا نام دہشت بن گیا۔ اس سے مسلمانوں کے دلوں میں سرکشی اور غرور پیدا ہوتا ہے۔ خدا نے فارس کے شہر ٹیسٹوسٹر کے ہاتھوں فتح کی۔ وہ قلعہ بند، شاندار، قدیم شہر جس میں مواقع کے رہنما الحرموزان نے اپنے آپ کو مضبوط کیا۔ مسلمانوں کی فوجوں نے تستار خندق کے گرد ڈیرے ڈالے۔ وہ اٹھارہ مہینے نہیں گزر سکی اس عرصے میں اس نے فارس کی فوجوں کے ساتھ اسّی لڑائیاں لڑیں۔ وہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ مدینہ پہنچنے کے لیے سورت تستار پر طوفان کی امید رکھتا ہے۔ محاصرہ طول پکڑتا گیا اور مسلمان تھک گئے۔ اچانک اس کے پاس فارسی آقاؤں کا ایک آدمی آیا اس نے اس سے حفاظت مانگی تو اس نے اسے حفاظت دی۔ فارسی آدمی نے اسے ایک چھپے ہوئے راستے کے بارے میں بتایا جس کے ذریعے وہ قلعہ میں داخل ہو سکتے تھے۔ اس نے اس سے ایک مضبوط آدمی طلب کیا جو تیرنا جانتا ہو تاکہ راستے میں اس کی رہنمائی کرے۔ تو میں نے ابو موسیٰ سے کہا کہ اے شہزادے مجھے وہ آدمی بنا دے۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے قبول کیا۔ میں اس فارسی آدمی کے ساتھ تاریکی میں چلا گیا۔ چنانچہ وہ مجھے دریا اور شہر کو ملانے والی زیر زمین سرنگ میں لے گیا۔ کبھی میں چلتا تھا، کبھی میں نے پیار کیا، کبھی میں رینگتا تھا، اور کبھی میں تیرتا تھا۔ یہاں تک کہ میں بندرگاہ پر پہنچا اور پھر راستہ سیکھنے کے بعد واپس آگیا حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔ اس نے تین سو نائٹ تیار کیے جن میں سے کچھ بہادر اور تیراکی کے قابل مسلمان سپاہیوں میں سے تھے۔ چنانچہ اس نے انہیں میرے ساتھ بھیج دیا۔ اس نے ہماری تکبیر کو مسلمان سپاہیوں کو شہر پر دھاوا بولنے کی علامت بنا دیا۔ چنانچہ میں اندھیرے کی آڑ میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ جب ہم شہر کی طرف جانے والی بندرگاہ پر پہنچے میں نے دیکھا کہ راستے میں میرے اسّی ساتھی باقی تھے۔ جبکہ باقی ہلاک ہو گئے۔ شہر کی سرزمین پر پہنچتے ہی ہم نے اپنی تلواریں اتار لیں۔ ہم نے قلعہ کے محافظوں پر حملہ کیا اور اسے ان کے سینے سے لگا لیا۔ پھر ہم نے بڑے ہوتے ہی دروازے کھولے۔ مسلمان سپاہی شہر میں گھس آئے ہمارے اور خدا کے دشمنوں کے درمیان سخت جنگ ہوئی۔ جنگوں کی تاریخ نے ایسا کم ہی دیکھا ہے۔ جب کہ لڑائی جاری تھی۔ اس نے اپنے صحن میں الحرموزان کو دیکھا چنانچہ میں اس کے پاس گیا اور ہم تلواروں سے لڑنے لگے ہم میں سے ہر ایک نے اپنے دوست کو مہلک ضرب لگائی میری تلوار اس سے اچھل گئی اور اس کی تلوار مجھے لگ گئی۔ وہ میدان جنگ میں شہید ہو کر گریں۔ خدا مسلمانوں کو شہر تستار سے محفوظ رکھے الحرموزان کو اخوان المسلمون نے پکڑ لیا تھا۔ میں کون ہوں؟