سنی تصورات کا خلاصہ امن اور یقین دہانی کی ضرورت مومن بندے کو اپنی زندگی میں کبھی اطمینان اور سکون کی ضرورت نہیں رہتی اسے اپنی عبادت میں سکون کی ضرورت ہے۔ جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور تواضع حاصل نہ کر لے اور اس کے دل کی جمع صرف اسی پر ہے، وہ پاک ہے۔ اس طرح وہ اپنی عبادت کی مٹھاس چکھتا ہے۔ یہ اپنے وجود کا مقصد حاصل کرتا ہے۔ نماز کی ابتدا کے بارے میں جنون میں رہتے ہوئے اسے سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ اس کا دل ثابت قدم رہے اور انحراف نہ کرے۔ اسے سکون کی ضرورت ہوتی ہے جب وسوسے اور خیالات ہوں جو اس کے اچھے کاموں میں رکاوٹ بنیں۔ تاکہ وہ مضبوط نہ ہوں اور وصیتیں نہ بنیں جو اس کے ایمان کو کم کرتی ہیں۔ جس طرح منافقت اس وقت ہوتی ہے جب وہ اچھے کاموں کے ساتھ ہو۔ مختلف قسم کے خوف اور مصیبتوں کا سامنا کرتے وقت اسے سکون اور یقین دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے دل کو مستحکم کرنے اور اس کے اعصاب کو پرسکون کرنے کے لیے آخر میں اسے بھی سکون کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ خوش اور خوش ہو۔ تاکہ اس کی خوشی اس پر مغلوب نہ ہو اور حد سے بڑھ جائے۔ وہ مصائب اور آفت سے مغلوب ہو جائے گا۔ سنی تصورات کا خلاصہ