خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ شکوک و شبہات جن میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔ خاص طور پر جب جائز حکم کی تلاش ہو۔ کسی معاملے کی قانونی حیثیت یا ممانعت کے بارے میں شک پڑ جاتا ہے۔ لیکن وہ کونسا پیمانہ ہے جس سے انسان نئے معاملات کو تول سکتا ہے؟ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا۔ ہم میں سے ایک آدمی کو کیسے پتہ چلے گا کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا خدا اس سے راضی ہو۔ اگر اس نے کل جو دیکھا وہ حرام تھا۔ وہ اسے آج حلال سمجھتا ہے، اور اسے آزمایا گیا ہے۔ یہ ایک واضح توازن ہے۔ حذیفہ نے اپنی خصوصیات کو واضح اور جامع الفاظ میں کھینچا ہے۔ حذیفہ ابن الیمان کے الفاظ کا واضح مفہوم وہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اس کا مطلب وہ ہے جو قانون سے حرام ثابت ہوا ہے۔ جس کی ممانعت مسلم علماء اور فقہاء کے درمیان اختلاف کے دائرے میں نہیں آتی ان کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرمائے جو حلال ہے وہ واضح ہے اور جو حرام ہے وہ واضح ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی چیز کی حرمت پر شک کرنے تک پہنچ جائے تو اس کی حرمت ظاہر ہو جاتی ہے۔ یا ایسے محلول میں جس کا حل ظاہر ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ شیطانی فتنہ میں مبتلا ہوا ہے، خدا نہ کرے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب کسی شخص کو یقین ہو کہ رشوت ممنوع ہے۔ حالانکہ ان کے نام بدل گئے ہیں۔ اور اسے یقین کے ساتھ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مقدس ہے۔ پھر وہ اس کے سامنے نرم اور کمزور ہو جاتا ہے۔ جب وہ اس پر اپنی مٹھاس لہراتی ہے۔ گناہ کی تلخی اور برے نتائج کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ یہاں مسلمان کو اس شاندار اور درست پیمانے کا استعمال کرنا چاہیے۔ جس کا حوالہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیا ہے۔ رشوت کا موازنہ دوسرے حرام امور سے کیا جا سکتا ہے۔ جس کا تعلق انسانی روح کی خواہشات سے ہے۔ اور اس کے دنیاوی مفادات جیسے بعض حرام چیزوں میں تجارت کرنا یا رب کے واضح معاملات کو جائز قرار دینا اس کا جواب اور روح یہ میزان حذیفہ ہے۔ کاش ہم اس سے اپنا سامان تول سکتے جو حلال اور حرام کے درمیان گھومتا ہے۔