رک جاؤ صحابہ کرام، علمائے کرام اور مشائخ سے واقفیت حاصل کی۔ میری طرف سے ایک نیا چیلنج میں انصار صحابہ میں سے ہوں۔ بنی عبدالاشھل سے جن کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کا بہترین کردار بن النجار پھر ابن عبدالاشل میں جنت میں داخل ہوا اور اللہ کے آگے سجدہ نہیں کیا۔ میں زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے ساتھ سود کا معاملہ کرتا تھا۔ میرے پاس بہت زیادہ سود خور رقم تھی۔ میرے لوگ مجھے اسلام کی پیشکش کر رہے تھے۔ وہ مجھے اس میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ میرے پیسے ضائع ہونے کے خوف سے جب جنگ احد ہوئی۔ خدا نے اسلام کے دل پر بہتان لگایا تو میں اپنے کزنز کے بارے میں پوچھنے آیا اور میری قوم کے لوگوں کے بارے میں تو مجھے بتایا گیا۔ احد میں مشرکین سے لڑنے کے لیے نکلے۔ چنانچہ میں نے اپنی قوم کے لیے لباس پہنا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ پھر میں لڑنے نکلا۔ کچھ مسلمانوں نے مجھے دیکھا انہوں نے آپ سے ہمارے بارے میں کہا تو میں نے کہا میں خدا پر ایمان لے آیا ہوں۔ پھر میں لڑتا رہا یہاں تک کہ زخم ٹھیک ہو گئے۔ میں موت کے دہانے پر تھا۔ چنانچہ وہ مجھے اپنی قوم کے پاس لے گئے۔ بنی عبدالاشھل تو پوچھو کہ میں کیوں آیا ہوں۔ کیا یہ میرے لوگوں کے لیے غذا ہے؟ یا خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی؟ تو میں نے کہا بلکہ یہ خدا اور اس کے رسول کا غضب ہے۔ پھر میری روح چھلک گئی۔ میں نے خدا سے ایک بھی دعا نہیں کی۔ چنانچہ انہوں نے میرا معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ فرمایا کہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ میں کون ہوں؟