باغ الحدیہ خداتعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے ساتھ شریک ٹھہرانے والے کو معاف نہیں کرتا لیکن اس سے کم جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ جس نے خدا کے ساتھ شرک کیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ۔ ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی سند سے، انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا شیطان نے اپنے رب سے کہا اپنی شان و شوکت کے ساتھ میں بنی آدم کو اس وقت تک فریب دیتا رہوں گا جب تک ان کے اندر روحیں ہیں۔ اور خدا نے کہا میری شان و شوکت سے جب تک وہ مجھ سے معافی مانگیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔ احمد نے روایت کی ہے۔ فائدہ بکر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: تم بہت گناہ کرتے ہو، اس لیے کثرت سے استغفار کرو اگر کوئی آدمی گناہ کرتا ہے اور اپنے پاس کسی کو معافی مانگتا دیکھتا ہے تو وہ اس کا راز اس کی جگہ پاتا ہے۔ حسن البصری رحمہ اللہ فرماتے تھے: اپنے گھروں میں کثرت سے استغفار کریں۔ اور آپ کی میزوں پر اپنی سڑکوں اور بازاروں میں اور اپنی محفلوں میں تم جہاں بھی ہو۔ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ معافی کب نازل ہو گی۔ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا یعنی اپنی زبان کی تعمیر کرو اے اللہ مجھے معاف کر دو خدا کے پاس ایسے اوقات ہوتے ہیں جب وہ اولاد کو رد نہیں کرتا وہ گنہگاروں کے لیے دعا کر رہا تھا۔