رکیں اور صحابہ کرام، علماء اور قابل ذکر کے بارے میں جانیں۔ میری طرف سے ایک نیا چیلنج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہوں۔ میں اہل مکہ کا حلیف تھا۔ جب میں نے اسلام کے بارے میں سنا میں اسلام قبول کرنے والوں میں سب سے پہلے تھا۔ جہاں میں چھٹا چھکا تھا۔ روئے زمین پر ہمارے سوا کوئی مسلمان نہیں۔ میں ابن ام عبد کے نام سے مشہور تھا۔ میں اپنی بہت سی احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے مشہور تھا۔ میں نے مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ اور اس کی وجہ سے مجھے خدا کے نام پر نقصان پہنچا دونوں ہجرت کر گئے۔ میں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام مناظر دیکھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ اور میں اس کے ساتھ زیادہ رہا۔ اور میں اس کے راز کا مالک تھا۔ بعض صحابہ نے تو یہ بھی سمجھا کہ میں ان کے خاندان میں سے ہوں۔ ستر سے زیادہ سورتیں براہِ راست آپ کے منہ سے نکلی تھیں، اللہ آپ کو سلامت رکھے اس پر کسی نے مجھ سے اختلاف نہیں کیا۔ مجھے قرآن سیکھنے اور سکھانے کا شوق تھا۔ خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ خدا کی کتاب سے کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ سوائے اس کے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ کہاں اترا ہے۔ اور جیسے ہی میں نیچے اترا۔ اگر میں کسی کو جانتا ہوں جو مجھ سے زیادہ کتاب الٰہی کا علم رکھتا ہے تو اونٹ اس تک پہنچ جائیں گے۔ میں اس کے پاس سوار ہوتا خدا کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے۔ میں وہ ہوں جو انہیں خدا کی کتاب سکھاتا ہوں۔ اور میں ان کے لیے اچھا نہیں ہوں۔ اس نے کہا، خدا اس پر رحم کرے اور اسے سلامتی عطا کرے۔ قرآن کو چار سے لے لو ابن ام عبد سے تو میرے والد نے شروع کیا۔ اور معاذ بن جبل اور ابی بن کعب اور سالم، ابو حذیفہ کا مؤکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھ سے فرمایا پڑھیں میں نے کہا میں آپ کو پڑھوں گا اور آپ کے پاس آؤں گا۔ اس نے کہا ہاں میں اسے دوسروں سے سننا پسند کروں گا۔ چنانچہ میں نے آپ کو سورہ نساء پڑھ کر سنائی یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کے کہنے پر پہنچ گیا۔ تو کیا ہوگا اگر ہم ہر امت سے ایک شہید لائیں؟ ہم آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائے ہیں۔ اس نے مجھ سے کہا، "یہ تمہارے لیے کافی ہے۔" تو میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔ پھر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ اس نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے پایا اس نے کہا، خدا اس پر رحم کرے اور اسے سلامتی عطا کرے۔ مانگو اور تمہیں دیا جائے گا۔ مانگو اور تمہیں دیا جائے گا۔ پھر فرمایا جو شخص قرآن کو اس طرح پاک پڑھے جیسے نازل ہوا ہے۔ اسے ابن ام عبد پڑھ کر پڑھنے دو تو جب میں بن گیا۔ کل میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں گا کہ مجھے خوشخبری سنائیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں نے کل خدا سے کیا پوچھا تھا۔ تو میں نے کہا میں نے خدا سے ایسا ایمان مانگا جو منہ نہیں موڑے گا۔ اور نہ ختم ہونے والی خوشی اور محمد کے ساتھ ابدیت کی اعلیٰ ترین جنت میں جائیں۔ پھر عمر مجھے خوشخبری دینے آئے اس نے پایا کہ ابوبکر ان سے پہلے تھے۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ تھا۔ چنانچہ میں ایک درخت پر چڑھا اور عرق سے کانٹے چن لئے تو ہوا نے میری ٹانگیں کھول دیں۔ لوگ مجھ پر ہنسے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی! میری ٹانگوں کی درستگی سے اس نے کہا، خدا اس پر رحم کرے اور اسے سلامتی عطا کرے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ترازو میں احد پہاڑ سے زیادہ بھاری ہیں۔ میں کون ہوں؟ جب اگلی قسط آئے گی انشاءاللہ