سنی تصورات کا خلاصہ تعجب ہے ان لوگوں پر جو ابدی آخرت کے بجائے اس جہان فانی میں مشغول ہیں۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے وہ جانتے ہیں جو کچھ دنیا کی زندگی سے ظاہر ہے لیکن وہ آخرت سے غافل ہیں۔ دنیا و آخرت اور ان کے درمیان تعلق کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس کے باوجود زیادہ تر لوگ آخرت کی بجائے اس دنیا میں مشغول ہیں۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ جو ظاہر ہے وہی ہے جو نظر آتا ہے اور جو موجود ہے وہی محسوس ہوتا ہے۔ یہ اس کی روح کو مغلوب کر لیتا ہے جسے غائب اور التوا کا علم نہیں۔ خواہ نصوص اور عقلی دلائل اس پر دلالت کریں۔ تو آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا والوں کو یقین ہے کہ معاملہ ہوا ہے، جس کی وجوہات پیچیدہ ہیں۔ جب کہ وہ دنیاوی معاملات میں حیران ہیں۔ اور وہ اس کا حساب نہیں لیتے وہ ہر اس چیز میں سبقت لے جاتے ہیں جس کا اس دنیا کی ظاہری زندگی سے تعلق ہے۔ جیسے ایٹمی سائنس اور جدید ٹیکنالوجی میں ان کی ترقی لیکن وہ اسے بعد کی زندگی میں فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کرتے کیونکہ وہ اس سے بے خبر ہیں۔