سنی تصورات کا خلاصہ تقدیر اور تقدیر خداتعالیٰ کی مخلوق میں راز ہے۔ ایمان کا درخت مومن بندے کے دل میں تقدیر قائم نہیں کرتا سوائے اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ ایک منصف منصف ہے جو کسی پر ظلم نہیں کرتا وہ اپنی تخلیق میں جس چیز کی قدر کرتا ہے اس میں اس کی بڑی حکمت ہے۔ اس کی حکمت ہمیں اس چیز میں ظاہر نہیں کرتی جو وہ، پاک ہے، حکم دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ذہن اس کی تقدیر کے رازوں کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ تقدیر کی اصل خداتعالیٰ کا راز اس کی مخلوق میں ہے۔ اس کی اطلاع نہ کسی قریبی بادشاہ کو ہوئی اور نہ ہی کسی بھیجے ہوئے نبی کو گہرائی میں جانا اور اس کا جائزہ لینا مایوسی کا ایک بہانہ ہے۔ محرومی کی سیڑھی اور ظلم کا درجہ لہٰذا خیال، خیال اور سرگوشیوں میں اس سے بہت محتاط رہیں خداتعالیٰ نے تقدیر کا علم اپنی نیند سے چھپا رکھا ہے۔ اور جس چیز سے وہ چاہتا تھا منع کرتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا وہ جو کرتا ہے اس کے بارے میں نہیں پوچھتا اور وہ پوچھتے ہیں۔ جو کوئی پوچھے کہ اس نے ایسا کیوں کیا، کتاب کا حکم رد کر دیا گیا۔ جو شخص کتاب کے حکم کا انکار کرے وہ کافروں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں نہیں پوچھتا جو وہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ صرف وہی کرتا ہے جو اس کے حکم میں ہے۔