آیت اور تفسیر خداتعالیٰ نے فرمایا اور نہ مرو جب تک کہ تم مسلمان نہ ہو۔ یعنی اسلام کی حفاظت کرو جب تک تمہاری صحت و سلامتی ہو تاکہ تم اس کے مطابق مرو سخاوت کرنے والے نے اپنی سخاوت میں اپنی رسم پوری کر دی کہ جو کسی چیز پر جیتا ہے وہ اسی پر مر جاتا ہے۔ اور جو کسی چیز کے لیے مرے گا وہ اسی کے لیے زندہ کیا جائے گا۔ خدا نہ کرے ورنہ تفسیر ابن کثیر اگر کسی نے کہا ’’جب تک مسلمان نہ ہو مرو نہیں‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ کیا انسان کو اپنے انجام پر اختیار ہے جب تک کہ اسے ایسا کرنے کا حکم نہ دیا جائے؟ جواب ہے مراد یہ ہے کہ انسان کو ہوشیار رہنے اور انجام کی تیاری کا حکم دینا وہ اچھے کام کرتا ہے، شاید اس پر ان کی مہر لگ جائے۔