سنی تصورات کا خلاصہ حق و باطل کے تصادم کی حقیقت حق و باطل کی جنگ ایک خدائی قانون ہے جو تبدیل نہیں ہوتا یہ تصورات، اخلاقیات اور اقدار پر جدوجہد سے شروع ہوتا ہے۔ اس جدوجہد میں میدانِ جنگ الفاظ اور بیانات کی کشمکش ہے۔ یہ ان تصورات اور اقدار کی وضاحت کے ذریعے کیا جاتا ہے جن کا حق اور اس کے لوگ مطالبہ کرتے ہیں۔ قبل از اسلام تصورات کی تردید اور ان کی تحریفات، تضادات اور زوال کی وضاحت حق و باطل کی کشمکش اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ دانتوں اور ہتھیاروں سے جہاد کے میدانوں میں اور کفر کی علامتوں کو قتل کرنا جب وہ لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں اور لوگوں کو حق تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سال کے بارے میں فرمایا اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنایا ان میں سے بعض دوسروں کو تکبر کی وجہ سے کلام کی زینت تجویز کرتے ہیں۔ اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے، تو انہیں چھوڑ دو اور جو کچھ وہ گھڑ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد برپا ہو جاتی۔ اور خداتعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے اس وقت تک لڑو جب تک کہ کوئی جھگڑا نہ ہو اور دین خدا کا ہو جائے۔