رک جاؤ صحابہ کرام، علماء کرام اور اعلیٰ حضرت سے واقفیت حاصل کی۔ میری طرف سے ایک نیا چیلنج میں بیعت عقبہ کے دن انصار کے اصحاب میں سے ہوں اور ان کے سرداروں میں سے ہوں میں زمانہ جاہلیت میں لکھنے میں اچھا تھا۔ میں تیراکی اور پھینکنے میں بہتر ہوں۔ تو انہوں نے مجھے فل کہا حمایت کرنے والوں میں صرف میں ہی ہوں۔ جو نقصان مجھے پہنچا وہی مکہ میں مہاجرین کو پہنچا اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے حج کے موسم کے بعد مدینہ کے وفد کا پیچھا کرنے کے لیے اپنے شورویروں کو بھیجا تھا۔ جس میں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا۔ چنانچہ وہ مجھے لے گئے اور میرے ہاتھ میرے گلے میں باندھ دیئے۔ وہ مجھے واپس مکہ لے گئے۔ وہ میرے گرد جمع ہو گئے اور مجھے مارا۔ وہ مجھے جو چاہیں عذاب دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا گویا اس نے مجھ پر رحم کیا۔ اس نے کہا ہائے مکہ میں تیری امیدوں پر، کس سے پناہ مانگتے ہو؟ میں نے کہا نہیں۔ بہرحال العساب نوال شہر میں ہمارے پاس آرہا تھا اور ہم نے اس کی عزت افزائی کی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اس نے میرے کزن کا ذکر کیا میں اس کا پڑوسی ہوں۔ خدا کی قسم تم میں سے کوئی اس تک نہیں پہنچے گا۔ تو مجھے روکو مدینہ میں، میں نے اپنا سارا پیسہ اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی عزت میں لگا دیا۔ انصار کا ایک آدمی مہاجرین میں سے ایک کے ساتھ اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ یا دو یا تین میں تمام اہلِ صفہ کو اپنے گھر لے جایا کرتا تھا اور ان کی تعظیم کرتا تھا۔ وہ ستر اور اسی کے درمیان تھے۔ میں ایک برتن میں گوشت سے دلیہ بناتا تھا۔ چنانچہ اس نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ میری پلکیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھوم رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے گھروں میں اس کے لیے میں نے ہمیشہ اپنے رب سے اس کی بھلائی اور رزق زیادہ مانگا۔ اور میں کہتا ہوں۔ اے اللہ مجھے عزت عطا فرما عمل کے علاوہ کوئی شان نہیں ہے۔ پیسے کے علاوہ کوئی اثر نہیں ہوتا اوہ خدا، تھوڑا سا پیسہ میرے لئے اچھا نہیں ہے اور یہ اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اور مجھے بہت رشک آیا اور لوگوں کو یہ بات مجھ سے معلوم ہوئی۔ میں نے کبھی کسی عورت سے شادی نہیں کی۔ سوائے کل کے میں نے کبھی کسی عورت کو طلاق نہیں دی۔ میرے بعد کسی نے اس سے شادی کرنے کی ہمت کی۔ میری بہادری اور فوجی تجربے نے مجھے اسلام کی خدمت کرنے پر مجبور کیا۔ یہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگوں میں مہاجرین کا جھنڈا تھا۔ اور انصار کا جھنڈا میرے ساتھ ہے۔ اور جنگ بدر میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ ابو سفیان کا قافلہ چھوٹ گیا ہے۔ اس نے کہا مجھے مشورہ دو، لوگ مقداد اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات کی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ مجھے مشورہ دو، لوگ تو میں نے کھڑے ہو کر کہا خدا آپ سے کہتا ہے کہ آپ ہمیں چاہتے ہیں یا رسول اللہ! جاؤ، اے خدا کے رسول! ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم اگر آپ ہمیں اپنے گھوڑوں کو سمندر میں ڈبونے کا حکم دیتے تو ہم ان میں ڈوب جاتے۔ اگر آپ ہمیں حکم دیتے کہ برق الغامادی کو ان کے لخت جگر ماریں تو ہم ایسا کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکا ہوا تھا۔ اور جب لڑائی چھڑ گئی۔ میں عریش کے دروازے پر کھڑا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بے چین تھا۔ اس ڈر سے کہ مشرک اس تک پہنچ جائیں۔ میں کون ہوں؟ ویڈیو کے نیچے تبصروں میں اپنے جوابات ہمارے ساتھ شیئر کریں۔ ہم تبصروں میں درست جواب کی تصدیق کریں گے۔ جب اگلی قسط آئے گی انشاءاللہ صدیوں کے بہترین حالات اور مثالیں۔ جب وہ مانگتا یا کہتا تو اس نے رسول کی پیروی کی۔