سنی تصورات کا خلاصہ رسولوں اور انبیاء کی عصمت انبیاء اور رسولوں کی عصمت کے مسئلہ پر بحث کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی نبی یا رسول خدا کی نافرمانی کے کسی عمل میں پڑ جائے؟ بڑا یا چھوٹا یا یہ ان کے لیے ناممکن ہے اور وہ اس سے عاجز ہیں؟ کچھ علیحدگی ہر چیز سے انبیاء و رسولوں کی عصمت کو ثابت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ کسی ایسے کام سے جو پہلے کے خلاف ہو۔ یہ اس بنا پر ہے کہ اگر ان کے لیے اس میں سے کسی میں پڑنا جائز ہوتا ان کے لیے خدا پر جھوٹ بولنا جائز ہے جو کہ ناممکن ہے۔ دوسرے گروہ انبیاء کی عصمت کا مکمل انکار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں شرک اور کبیرہ گناہوں میں پڑنے دیا گیا۔ اہل سنت اور برادری اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ رسولوں اور انبیاء کو خدا کی خبر دینے میں کوئی خامی ہے۔ وہ بڑے گناہوں اور غیر اخلاقی کاموں کے ارتکاب سے بھی متفقہ طور پر انکار کرتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کچھ ایسا ہو سکتا ہے کہ خدا ان پر الزام لگائے کیونکہ وہ انسان ہیں اور کمال صرف خدا کا ہے۔ لیکن خُدا اُن کو اِس لیے منظور نہیں کرتا جو مذمت کے لائق ہے۔ وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اس سے معافی مانگتے ہیں۔ ان کی بخشش اور توبہ کے ساتھ، وہ پہلے سے زیادہ اعلی درجے کے ہوں گے یہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گناہ آدم علیہ السلام سے آیا پھر اس کی تسبیح کرنا اور اس سے توبہ کرنے پر اس کی تعریف کرنا واجب ہے۔ اس نے کہا کہ اس طرح وہ برگزیدہ مہدیوں میں سے ہو گئے۔ خداتعالیٰ نے فرمایا آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور گمراہ ہو گئے۔ پھر اس کے رب نے اسے چن لیا اور اس کی طرف متوجہ ہوا اور اس کی رہنمائی کی۔