سنی تصورات کا خلاصہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ پورا قرآن ایک جیسا ہے اور اس کی بعض آیات ایک جیسی ہیں۔ خداتعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بہترین حدیث نازل فرمائی، ایک ایسی کتاب جو ایک جیسی اور دہرائی گئی ہے۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کی کھالیں اس سے چھلک پڑتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارا قرآن حسن اور کمال میں ایک جیسا ہے۔ کسی بھی طرح سے مفاہمت اور اختلاف یہاں تک کہ جو معنی میں لطیف اور مبہم ہے۔ جو کوئی بھی اس پر غور کرتا ہے اسے یقین ہے کہ یہ صرف ایک عقلمند اور علم والے کی طرف سے آتا ہے۔ اس لیے قرآن کو بھی مکمل طور پر فیصلہ کن قرار دیا گیا۔ خداتعالیٰ نے فرمایا ایک ایسی کتاب جس کی آیات کو ایک دانا اور صاحب علم نے تفصیل سے بیان کیا ہو۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں۔ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں سے فیصلہ کن آیات ہیں جو کتاب کی ماں ہیں۔ اور ایک اور مماثلت اس سے کیا مراد ہے؟ قرآن کی بعض آیات بہت سے لوگوں کے فہم کے مطابق معنی کے اعتبار سے مشکوک اور مبہم ہیں۔ یہ الجھن دور نہیں ہوتی سوائے مشتبہ فہم کی ان آیات کو رد کرنے کے اسی موضوع پر دیگر متعلقہ آیات کی طرف اس مماثلت کو آیات سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اسے ثالث کو واپس نہیں کرنا یہ لوگوں میں تفرقہ پھیلانے کی وجہ سے ہے۔ یہ گمراہیوں اور گمراہیوں کا کام ہے۔ خداتعالیٰ نے فرمایا رہا وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے۔ وہ اس سے مشابہت کی پیروی کرتے ہیں، فتنہ تلاش کرتے ہیں اور اس کی تعبیر تلاش کرتے ہیں۔