سنی تصورات کا خلاصہ عقیدے کو سمجھنے میں عصری انحراف آج ہم ایک ایسی مخدوش صورتحال میں جی رہے ہیں جو تاریخ اسلام میں منفرد ہے۔ اگر انسانیت کی پوری تاریخ میں نہیں۔ بہت سے لوگ خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر وہ اس کے قانون کو حقیقی زندگی میں نافذ نہیں کرتے انہیں اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی ان میں سے کچھ تو یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آج کے مفاد میں ہے۔ یہ خدا کے قانون کو انسانیت کی حقیقت سے الگ کرنے میں ہے۔ اور اس کے بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کو اپنائے۔ تاہم، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں جو اسلام اور اس کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ پوری انسانیت کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پوری تاریخ میں انسانیت کا یہی حال ہے۔ یہ دو میں سے صرف ایک کیس تھا۔ یا تو وہ ایک خدا پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے قانون کو عمومی طور پر نافذ کرنا جہاں تک عقیدہ میں شرک کا تعلق ہے۔ دوسرے دیوتاؤں اور قانون سازوں کے وجود میں یقین رکھتا ہے۔ ان کے قوانین خدا کے بغیر نافذ ہوتے ہیں۔ یا تو ہم ایک خدا کو مانتے ہیں۔ پھر ہم کسی اور کا قانون نافذ کرتے ہیں۔ یہ پاگل قسم کی بات ہے۔ زمانہ جاہلیت یا اسلام میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔