سنی تصورات کا خلاصہ گورننس کے بارے میں جامع اور فصیح بیان ذیل میں شریعت کے مطابق حکم کے موضوع پر چند جامع اور حکیمانہ اقوال ہیں۔ اول یہ کہ شریعت کی دفعات میں نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسے اس میں کسی چیز سے شرمندہ نہیں ہونا چاہئے۔ اور نہ ہی اس کی بعض دفعات کے اطلاق کو ترک کرتا ہے۔ لوگوں کو شریعت سے دور نہ کرنے کے بہانے ان کو دین اسلام سے پیار کرنے کے مقصد سے جیسا کہ کچھ تصور کرتے ہیں۔ یہ مایوسی اور کامیابی کی کمی کی طرف جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت نازل فرمائے ایک کتاب آپ پر نازل ہوئی ہے، لہٰذا اس کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی شرمندگی نہ ہو۔ مومنوں کو ڈرانا اور نصیحت کرنا دوسرا، کوئی شریعت اور خدا کی حکمرانی کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ خود قانون ساز پر حملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تیسرا، خدا ان لوگوں پر لعنت کرے جو زمین کو روشن نہیں کرتے وہ مسافروں کے راستے میں نشانیاں دکھا رہے ہیں۔ لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تو مذہب تبدیل کرنے والوں کا کیا ہوگا؟ لوگوں کو راہ حق کی طرف رہنمائی سے ہٹانا چوتھا، انسانی رائے یا فیصلہ یہ ایک وقت کے لیے موزوں ہو سکتا ہے اور دوسرے کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا بلکہ اسے خراب کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا لوگوں کی حکمرانی کو یقینی بناتا ہے۔ اس کی حکمت ہر وقت اور ہر جگہ کے لیے موزوں ہے۔ پانچواں: ظالم کے پاس جانا اور خدا اور اس کے رسول کی حکومت کو چھوڑ دینا یہ خالص منافقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین اور اہل کتاب کے بارے میں فرمایا وہ فیصلہ کے لیے ظالم کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کفر کریں۔ چھٹا: شریعت کے مطابق حکم عوام، حکمرانوں اور سیاستدانوں کو اس سے بچاتا ہے۔ خداتعالیٰ نے فرمایا تو اس نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اس کے مطابق جو خدا نے نازل کیا۔ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس کی بنیاد پر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو سنی تصورات کا خلاصہ ماخذ