سنی تصورات کا خلاصہ قرآن کی آیت کب سنت الٰہی پر دلالت کرتی ہے؟ قرآن کی بعض آیات کی اہمیت کو جاننے کے لیے ایسے طریقے اور اوزار ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان میں مذکور معاملہ اللہ کے قوانین میں سے ایک ہے۔ اولاً یہ کہ آیت میں خود بیان کیا گیا ہے یا اس کی پیروی ہے کہ مذکورہ بالا معاملہ خدا کے قوانین میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ خدا کی سنت جو پہلے گزر چکی ہے اور تم خدا کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ سنت کو لفظ "وہی" کے ساتھ جاری کیا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ اور اس طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بدترین مجرموں کو اس میں تدبیر کرنے کے لیے رکھا یا آیت میں لفظ "خدا کے الفاظ" یا "ہمارا کلام" ظاہر ہوتا ہے، جیسے کہ خدا تعالیٰ کے الفاظ تم سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلایا گیا لیکن انہوں نے اس پر صبر کیا جس کی تکذیب کی گئی اور نقصان پہنچایا گیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری فتح آ گئی۔ خدا کے کلام میں کوئی تبدیلی نہیں ہے اور بیشک تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہمارے رسولوں کے لیے ہماری بات پہلے ہے کہ ان کی مدد کی جائے گی اور اگر ہم ان کو بھرتی کریں گے تو وہ غالب رہیں گے۔ Thirdly, the verse should follow the path of general description and absolute law جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنے اندر کی حالت کو نہ بدل دے۔‘‘ سنی تصورات کا خلاصہ