سنی تصورات کا خلاصہ شفاعت آخرت میں شفاعت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہے۔ دوسرا تمام انبیاء، صادقین، شہداء اور صالحین کے لیے ہے۔ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام اس کے پاس بہت سی شفاعتیں ہیں۔ اس سے ان کی عظیم شفاعت، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور انہیں عام طور پر اہلِ حشر کے لیے سلامتی عطا فرمائے کہ خداتعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ کرنے اور الگ کرنے کے لیے آئے گا۔ یہ وہی ہے جس کی تمام انبیاء نے معافی مانگی۔ یہ وہ مقام ہے جس کا خدا نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا۔ ان میں ان کی شفاعت بھی ہے، اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرمائے، اہل جنت کے لیے اس میں داخل ہو کر ان میں ان کی شفاعت بھی ہے، خدا ان پر رحم کرے اور انہیں اپنے چچا ابو طالب کے لیے سلامتی عطا کرے۔ کہ خدا اس کے عذاب کو ہلکا کر دے گا۔ جہاں تک انبیاء، صادقین، شہداء اور صالحین کی شفاعت کا تعلق ہے۔ یہ ان کی شفاعت کافروں کے بجائے مومنوں کے لیے ہے۔ خدا مشرک کے لیے شفاعت کی اجازت نہیں دیتا یہ ایک شفاعت ہے تاکہ کچھ فاسق مومنین جو اس کے مستحق ہیں وہ جہنم میں داخل نہ ہوں۔ اور شفاعت کہ جو اس میں نافرمان مومنوں میں سے داخل ہوئے وہ جہنم سے نکلیں گے۔ اس شفاعت کی دو شرطیں ہیں۔ پہلی شفاعت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی شفاعت کی اجازت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس کی اجازت کے بغیر کون اس کے پاس شفاعت کرسکتا ہے؟ دوسرا اس کا اطمینان، وہ پاک ہے، اس کی طرف سے جس کے لیے شفاعت کی جاتی ہے۔ جیسا کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ وہ شفاعت نہیں کرتے سوائے ان کے جو راضی ہوں۔ اور اس کے خوف سے وہ رحم دل ہیں۔