آیت اور تفسیر خداتعالیٰ نے فرمایا اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے خدا اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ نے کہا یعنی اسے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹا دو یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ کہ مذہب کی ابتدا سے لے کر اس کی شاخوں تک ہر چیز پر لوگ جھگڑتے ہیں۔ کہ اس معاملے میں اختلاف کو قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس کے بارے میں آپ کو اختلاف ہے، اس کا فیصلہ خدا کے سپرد ہے۔ خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا کیا حکم ہے؟ میں اس کی صحت کی گواہی دیتا ہوں، کیونکہ وہ سچا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یعنی جھگڑے اور جہالت کو کتاب خدا اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹانا۔ لہٰذا آپ کے درمیان جو جھگڑے ہیں ان کے فیصلے کے لیے ان سے رجوع کریں۔ اگر تم خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو جھگڑے کے میدان میں فیصلہ نہیں چاہتا وہ قرآن و سنت کا سہارا لیتا ہے۔ وہ نہ خدا کو مانتا ہے اور نہ یوم آخرت پر تفسیر ابن کثیر