آیت اور تفسیر خداتعالیٰ نے فرمایا ہم نے کتاب میں کسی چیز کو نظرانداز نہیں کیا۔ امام الخطابی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے کہو اور اس کی تعریف کرو دین کے معاملے میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی گئی جس کی کتاب میں وضاحت نہ کی گئی ہو۔ یعنی قرآن حالانکہ بیان دو طرح کا ہوتا ہے یعنی دو قسم کا کتاب کے متن میں ایک واضح بیان اور اندر تلاوت کے معنی کے بارے میں ایک پوشیدہ بیان جمع ہوگیا۔ اس ضرب کا مطلب جو بھی ہے وہ دوسرا ضرب ہے۔ ان کے بیان کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد تھی۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا یہی مفہوم ہے۔ تاکہ وہ لوگوں پر واضح کر دیں جو ان پر نازل کیا گیا ہے اور تاکہ وہ غور کریں۔ وہ ہے جو قرآن و سنت کو جمع کرتا ہے۔ بیان کے دونوں پہلو پورے ہو گئے۔ الخطابی کی سنن کی خصوصیات