سنی تصورات کا خلاصہ عیش و آرام کی حقیقت عیش و عشرت وہ چیز ہے جو اس دنیا میں عورت کو تقویٰ اور پرہیزگاری سے سب سے زیادہ دور کرتی ہے۔ اس کا مطلب محض فضل سے لطف اندوز ہونا نہیں ہے۔ بلکہ متمول شخص آخرت سے غافل ہے۔ وہ جو دنیا کی لذتوں اور اس کی خواہشات سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ جس کو فضل سے نوازا گیا تھا۔ وہ وہی ہے جس پر چھایا ہوا تھا اور فضل سے مغلوب تھا۔ اور انتقام حق کی واپسی ہے۔ عیش و عشرت کا ذکر قرآن میں نہیں ہے سوائے قابل مذمت کے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے۔ جو ظالم تھے انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جس کا انہیں فائدہ تھا اور وہ مجرم تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم نے کسی بستی میں کوئی تنبیہ کرنے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ دولت مندوں نے کہا کہ وہ مالدار ہے۔ جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔